Skip to main content

Shehr Sara Huwa Khafa Maira...

شہر سارا ہوا خفا میرا
نام کیا آپ نے لیا میرا

خواب مانا کہ ہے کچا میرا
وقت کٹ جاتا ہے اچھا میرا

خود گرفتار ہوں وفاؤں میں 
ورنہ پنجرہ تو ہے کھلا میرا

جتنا منزل کی اور جاتا ہوں
خود سے بڑھتا ہے فاصلہ میرا

اور موسم نہ کوئی راس آیا
غم کے موسم میں غم ہوا میرا

صرف باقی بچا اندھیرا جب
پھر کیا تیرا اور کیا میرا

آپ  کے  بعدآپ  سے  پہلے
گر کوئی تھا تو وہم تھا میرا

سامنے میں ہوں عکس ہے تیرا
آئینہ بھی نہ ہو سکا میرا

آئیے ، آپ ہی تلاش کریں 
مجھ سے تو کھو گیا پتا میرا

حال کی فکر تو نہ کر ابرک
دیکھ بس حوصلہ ذرا میرا 

Comments

Popular posts from this blog

Us K Pehlu Sy Lag K Chalty Hain...

اُس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں ہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیں میں اُسی طرح تو بہلتا ہوں اور سب جس طرح بہلتے ہیں وہ ہے جان اب ہر ایک محفل کی ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں کیا تکلف کریں یہ کہنے میں جو بھی خوش ہے، ہم اُس سے جلتے ہیں ہے اُسے دور کا سفر در پیش ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں تم بنو رنگ، تم بنو خوشبو ہم تو اپنے سخن میں ڈھلتے ہیں

kal shab dil-e-āvāra ko siine se nikālā

kal shab dil-e-āvāra ko siine se nikālā ye āḳhirī kāfir bhī madīne se nikālā ye fauj nikaltī thī kahāñ ḳhāna-e-dil se yādoñ ko nihāyat hī qarīne se nikālā maiñ ḳhuun bahā kar bhī huā baaġh meñ rusvā us gul ne magar kaam pasīne se nikālā Thahre haiñ zar-o-sīm ke haqdār tamāshā.ī aur mār-e-siyah ham ne dafīne se nikālā ye soch ke sāhil pe safar ḳhatm na ho jaa.e bāhar na kabhī paañv safīne se nikālā Iqbal Sajid