Skip to main content

Tum Mairi Ankh K Tevar Na Bhulao Pao Gy...

تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤگے
ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا

ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
صفحۂ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا

اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤگے
کسی معذور کو دیکھوگے تو یاد آؤں گا

اسی انداز میں ہوتے تھے مخاطب مجھ سے
خط کسی اور کو لکھو گے تو یاد آؤں گا

میری خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح
تم اگر خود سے نہ بولو گے تو یاد آؤں گا

آج تو محفل یاراں پہ ہو مغرور بہت
جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آؤں گا

Comments

Popular posts from this blog

Us K Pehlu Sy Lag K Chalty Hain...

اُس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں ہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیں میں اُسی طرح تو بہلتا ہوں اور سب جس طرح بہلتے ہیں وہ ہے جان اب ہر ایک محفل کی ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں کیا تکلف کریں یہ کہنے میں جو بھی خوش ہے، ہم اُس سے جلتے ہیں ہے اُسے دور کا سفر در پیش ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں تم بنو رنگ، تم بنو خوشبو ہم تو اپنے سخن میں ڈھلتے ہیں

kal shab dil-e-āvāra ko siine se nikālā

kal shab dil-e-āvāra ko siine se nikālā ye āḳhirī kāfir bhī madīne se nikālā ye fauj nikaltī thī kahāñ ḳhāna-e-dil se yādoñ ko nihāyat hī qarīne se nikālā maiñ ḳhuun bahā kar bhī huā baaġh meñ rusvā us gul ne magar kaam pasīne se nikālā Thahre haiñ zar-o-sīm ke haqdār tamāshā.ī aur mār-e-siyah ham ne dafīne se nikālā ye soch ke sāhil pe safar ḳhatm na ho jaa.e bāhar na kabhī paañv safīne se nikālā Iqbal Sajid